ایچ پائلوری، معدہ کی خرابی، گھبراہٹ اور دل کی دھڑکن کا قدرتی علاج
ایچ پائلوری، معدہ کی خرابی اور بے چینی کا قدرتی علاج معدہ کی خرابی، ایچ پائلوری، بدہضمی اور تیزابیت جیسے مسائل آج کل بہت عام ہو چکے ہ...
ایچ پائلوری، معدہ کی خرابی اور بے چینی کا قدرتی علاج
معدہ کی خرابی، ایچ پائلوری، بدہضمی اور تیزابیت جیسے مسائل آج کل بہت عام ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ کئی افراد کو دل کی دھڑکن تیز ہونا، گھبراہٹ، بے چینی، خوف، ڈپریشن اور وہم جیسے مسائل بھی ہونے لگتے ہیں۔ بعض لوگ بار بار ای سی جی کرواتے ہیں لیکن اصل وجہ معدہ کی خرابی ہوتی ہے۔ قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کیا گیا یہ نسخہ معدہ کو مضبوط بنانے اور ذہنی سکون پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔
استعمال ہونے والی جڑی بوٹیاں
- پودینہ پہاڑی 50 گرام
- بہی دانہ 50 گرام
- الائچی کلاں 50 گرام
- ریوند چینی 30 گرام
- صندل سفید 30 گرام
- ملٹھی 50 گرام
- اسگندھ ناگوری 50 گرام
نسخہ تیار کرنے کا طریقہ
- تمام جڑی بوٹیوں کو اچھی طرح کوٹ پیس لیں۔
- باریک سفوف بنا کر کپڑے سے چھان لیں۔
- اس سفوف کو صاف اور خشک شیشی میں محفوظ کر لیں۔
طریقہ استعمال
معدہ کے السر اور معدہ کی تکلیف کیلئے:
- ایک چائے کا چمچ صبح
- ایک چائے کا چمچ شام
- کھانا کھانے سے پہلے استعمال کریں
دل کی دھڑکن، خوف، گھبراہٹ اور بے چینی کیلئے:
- ایک چمچ صبح
- ایک چمچ شام
- پانی کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد استعمال کریں
اس نسخے کے فوائد
- معدہ کو مضبوط بناتا ہے
- ایچ پائلوری کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے
- بدہضمی اور تیزابیت میں فائدہ دیتا ہے
- دل کی دھڑکن کی تیزی کو کم کرتا ہے
- گھبراہٹ اور بے چینی میں سکون دیتا ہے
- ڈپریشن اور ذہنی دباؤ میں کمی لانے میں مددگار ہے
- ہاضمہ بہتر بناتا ہے
- قدرتی جڑی بوٹیوں کی وجہ سے جسم کو تقویت دیتا ہے
پرہیز
- بادی اشیاء سے پرہیز کریں
- دال مسور، آلو اور گوبھی استعمال نہ کریں
- بڑا گوشت اور تیز مصالحہ دار کھانے نہ کھائیں
- بازاری فاسٹ فوڈ اور تیل والی اشیاء سے پرہیز کریں
- کولڈ ڈرنکس استعمال نہ کریں
- ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈا دودھ نہ پئیں
- تمام کھٹی اور کھٹی میٹھی چیزوں سے پرہیز کریں
- بھنڈی، توری، شملہ مرچ، رواں پھلی، اروی اور اس کے پتے استعمال نہ کریں
- سرسوں کا ساگ، پالک، کھیرا، لیموں، مکئی، شکر قندی اور دھنیا سے پرہیز کریں
یہ معلومات مفید عامہ کیلئے ہیں۔ کسی بھی علاج کو باقاعدہ استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج یا طبیب سے مشورہ ضرور کریں۔